قُرآن فہمی اور سائینسی علوم
قُرآن فہمی اور سائینسی علوم
از ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاء (گوجرہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا ، آخرت اور انسان۔۔۔ سوائے ان تین کے قرآن کا موضوعِ بحث یا عنوان اور ہے بھی کیا۔ کیا قرآن گرد و پیش سے بے نیاز کسی خلائی ذیل میں اترا تھا جہاں انسان کے لئے پہلے سے موجود کسی شے کا تعارف ہی نہ ہوا ہو یا وہ کسی جیتی جاگتی کائنات میں اترا تھا جہاں حواس گرد و پیش کا ادراک کر سکیں۔
قرانِ مجید کے مطابق هُوَ الۡاَوَّلُ وَالۡاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالۡبَاطِنُۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ (57:3) وہی تو اول بھی ہے اور آخر بھی، وہی ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور وہی تو ہے جسے ہر شے کا علم ہے۔ اس ایک آیت میں کیا کچھ نہیں سمو دیا گیا۔ایک عامی کے لئے یہ آیت محض حرف وآہنگ و صوت کا مجموعہ ہو تو ہو مگر ایک عارف اس کے ایک ایک اسلوب پر جھوم جھوم جاتا ہے۔ اس کو پوری کائناتِ ہست و بود اس میں سانس لیتی معلوم دیتی ہے۔ اس کو زمین پر بیٹھے ماوراء کی دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں۔
ایک عامی کے لئے قران محض ترجمہ پڑھ کر یا عربی زبان کی شد بد رکھ کر زندگی گزارنے کا ایک نسخہ ہو تو ہو مگر ایک عارف کے لئے اس کے متن میں اور بین السطور میں نہاں وہ اسرار و رموز ہوتے ہیں جو اس کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ واصف علی واصف نے کیا خوب کہا تھا کہ زندگی صرف نیوٹن ہی نہیں ملٹن بھی ہے۔ محض الفاظ سے آگے بھی بہت کچھ ہوا کرتا ہے۔
اسی ایک آیت کو لیجیئے کہ جس میں خدا کو الاول بھی کہا گیا ہے اور الآخر بھی۔ آپ اس کائنات بلکہ خود اپنی ابتداء ہی کو نہیں پہنچیں گے تو پھر اول و آخر کو کیونکر جانیں گے، اس سے آگے بڑھیئے کہ آپ جب تک محض ظاہر کی سطح بینی ہی پر رہیں گے تو گہرائی کے اعماق میں یا گیرائی کی پہنائیوں میں اتر کر باطنی اسرار و رموز کی عقدہ کشائی آپ سے کیا ہو گی اور ظاہر کو جانے بغیر آپ باطن تک کیسے پہنچیں گے:
اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا (اقبال)
ہر شے باہم دگر مربوط بھی ہے منسلک بھی اور مرتب بھی:
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں
(اقبال)
اسی آیت کے آخر میں خدا کے اول و اخر و ظاہر و باطن ہونے کے بعد یہ جو هُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ کہا گیا ہے یہ یونہی بے معنی نہیں بلکہ اس میں کمالِ معنویت ہے کہ اس کی اولیت و آخریت و ظہور و بطون کو اشیاء کی علمیت سے مربوط کیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بارہا کتاب اللہ کا یہ تقاضا ہے کہ
کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
وہ علماء صرف ان ہی کو کہتا ہے کہ جن کی نگاہ میں ہیں تمام چرند، پرند اور اجرام:
اَلَمۡ تَرَ کیا تُو نے غور نہیں کیا اَنَّ اللّٰهَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً کہ اللہ نے بلندیوں سے پانی کو کیسے پستیوں میں اتارا فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُهَاؕ پھر اس سے میوے نکالے مختلف رنگوں کے وَمِنَ الۡجِبَالِ جُدَدٌۢ اور پہاڑوں کے ٹکڑے بھی بِيۡضٌ وَّحُمۡرٌ سرخ بھی سفید بھی مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُهَا مختلف رنگ ہیں جن کے وَغَرَابِيۡبُ سُوۡدٌ اور کچھ گہرے سیاہ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالۡاَنۡعَامِ اور انسانوں ، چلنے والے دیگر جانوروں اور مویشیوں کے بھی مُخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُهٗ كَذٰلِكَ اسی طرح مختلف رنگ و روپ ہیں اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ بلا شبہ وہی تو خدا کی حقیقی خشیت (ڈر) رکھتے ہیں مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا جو بندے ہیں اس کے ان حقیقتوں کا علم رکھنے والے (28-35:27)
وہ تو یہاں تک زور دیتا ہے کہ ڈالی سے شگوفہ پھوٹ رہا ہو تو
فطرت کو خرد کے رو برو کر
تسخیرِ مقامِ رنگ و بُو کر
وہ دعوتِ نظارہ دیتا ہے کہ
گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر
اس کو اس کائنات سے بے تعلق ایمان والے نہیں چاہئیں بلکہ وہ تو ایمان والا مانتا ہی ان کو ہے جو شاخوں سے شگوفے پھوٹنے کا بغور نظارہ کرتے ہیں:
اُنْظُرُوۡۤا ارے غور تو کیا کرو اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ ان پھل دار پودوں کے پھلوں پر جب ان کی ڈالیاں ثمر بار ہوتی ہیں، ان سے پھل نکلتا ہے، شگوفے پھوٹتے ہیں یہی نہیں وَيَنۡعِهٖ بلکہ ان کے پکنے پر بھی بغور نظر کرو اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكُمۡ لَاٰيٰتٍ بے شک ان سب میں تمہارے لئے آیات (نشانیاں) ہیں لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (6:99)
دیکھا آپ نے کہ ایمان کے حصول کو کن آیات (نشانیوں) کو لازم ٹھہرایا گیا ہے۔
ایمان کے بغیر اعمالِ صالحہ کچھ بھی تو نہیں کہ قرانِ مجید میں ہر ہر جگہ ایمان مقدم ہے۔ ایمان ہے تو اعمالِ صالحہ کی بھی قدر و قیمت ہے، بصورتِ دیگر اعمالِ صالحہ بھی محض ڈھکوسلہ ہیں ، خام خیالی ہیں اور کچھ بھی نہیں۔۔ قرانِ مجید میں آپ کو ہر ہر جگہ ایمان اعمالِ صالحہ سے پہلے ہی ملے گا جو ایمان کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے:
بَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (2:25)
بشارت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور جن نے اعمالِ صالحہ سرانجام دیئے۔
اگر ایمان مقدم ہے تو وہ آیات کے بغیر نہیں آئے گا۔ ایک طرح کی آیات (نشانیاں) وہ ہیں جو کتاب اللہ میں جگمگا رہی ہیں اور دوسری آیات وہ ہیں کہ جو کائناتِ ہست و بود میں یعنی صحیفۂ کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں اور اہلِ ایمان کو دعوتِ ایمان دے رہی ہیں:
سَنُرِيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا ہم بہت تیزی سے دکھاتے چلے جائیں گے ان کو اپنی آیات فِى الۡاٰفَاقِ وَفِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ کائناتِ ہست و بود میں اور خود ان کے اپنے جسم و جان میں حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ یہاں تک کہ ان کے لئے پوری طرح کھل کر واضح ہو جائے گا اَنَّهُ الۡحَـقُّ کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ (41:53)
اے انفس و آفاق میں پیدا تیرے آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایئندہ تیری ذات
اسی لئے تو اس نے ان آیات کے کھوج میں زمین کی سیر کو لازم ٹھہرا دیا اور صرف سیر سپاٹے کرنے کو نہیں بلکہ کھوج لگانے کو: سِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ زمین میں سیر کرو
فَانْظُرُوۡا اور اس پر نظر کرو كَيۡفَ بَدَاَ الۡخَـلۡقَ کہ خدا نے کیسے تخلیق کی ابتداء کی ثُمَّ اللّٰهُ يُنۡشِئُ النَّشۡاَةَ الۡاٰخِرَةَ اور پھر آخری پیدائش کو خدا کیسے اٹھاتا ہے (29:20)۔
وہ تو بھلا ہو بظاہر ایک بے ایمان اور ہمارے زعم میں ایک کافر کا یعنی ڈارون کا کہ وہ خلق کی ابتداء کا کھوج لگانے کے لئے نادانستہ طور پر ہی سہی خدا کے اس حکم کی تعمیل میں چل نکلا، وہ تو بھلا ہو پادری جان گریگر مینڈل کا جو اپنے گرجا گھر میں مٹر بو کر اس کے شگوفے پھوٹنے کا نظارہ کرتا رہا اور بالآخر ان دونوں بظاہر کافروں نے ہمیں حیاتیاتی عوامل یعنی جہد للبقاء اور قوانینِ وراثت سے آشنا کیا ورنہ
خودی کی موت سے مشرق کی سرزمینوں میں
ہوا نہ کوئی خدائی کا رازداں پیدا (اقبال)
قرآن نے اعلان کر رکھا ہے کہ اس کو اس کے عالم بندے ہی سمجھیں گے۔ یہ ذخیرۂ علم و عرفان ٹٹوؤں (خچروں) اور گھسیاروں کے لئے نہیں۔ ہر دور میں علم کی رسائی جہاں تک ہوئی وہاں تک جاننے والے بندگانِ خدا نے اس کے مطابق ہی کتاب اللہ کو سمجھا۔ یہ علم و دانش کا عظیم ذخیرہ اور معرفت کا خزانہ ہرکس و ناکس و ہما شما کے لئے ہر گز نہیں:
بر سماع راست ہر کس چیر نیست
طعمہ ہر مرغکے انجیر نیست (رومی)
صحیح سننے پر ہر شخص قادر نہیں ہوتا ایسے ہی جیسے انجیر ہر پرندے کی خوراک نہیں ۔
اسی طرح قرانِ مجید کے اسرار و رموز و معارف صرف انہی پر کھلتے ہیں جو مطالعۂ کتاب اللہ بھی رکھتے ہیں اور مطالعۂ صحیفۂ فطرت بھی۔ انفس و آفاق میں پھیلی آیات کے بغیر دولتِ ایمان بھی نصیب نہیں ہوتی اور ایمان کے بغیر عملِ صالح لایعنی و باطل ہے۔
قرآنِ مجید ہما شما اور ہر کس و ناکس کے لئے تختۂ مشقِ ستم نہیں بلکہ یہ کتابِ حقائق و معارف صرف اور صرف اہلِ علم و دانش کے لئے ہے:
كِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ یہ وہ کتاب ہے کی جس کی آیات کھول کر بیان کی گئی ہیں قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا یہ عربی قران ہے (جس میں زبان و بیان کی گہرائیاں بھی ہیں اور گیرائیاں بھی، یہ عربی کے سوا کسی اور زبان کا قران ہے ہی نہیں)لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ یہ صرف ان لوگوں ہی کے لئے ہے جو علم رکھتے ہیں (نہ صرف عربی لغات و زبان و بیان کا علم بلکہ آیاتِ انفس و افاق کا بھی علم )(41:3) كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ (یہ وہ کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے آپ کی طرف برکت والا بنا کر) لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ (تاکہ اس کی آیات پر تدبر کیا جائے صرف اس کتاب ہی کی ایات پر نہیں بلکہ اس کی ان تمام آیات پر جو کتابِ کائنات میں ہیں) وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ (اور اس کا تذکرہ کریں اولوالالباب یعنی اہلِ عقل و فہم و فراست و دانش) (38:29) اور یہ اولوالالباب ہیں کون کہ جو واقعی قرآن فہمی کے اصل اہل ہیں اور ان کے سوا کوئی اور قران کو سمجھ ہی نہیں سکتا:
مَنۡ يُّؤۡتَ الۡحِكۡمَةَ (جس کو حکمت یعنی دانش و فہم و فراست عطا ہوئی ) فَقَدۡ اُوۡتِىَ خَيۡرًا كَثِيۡرًا (اسی کو خیر کثیر ملی) وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ (اور سمجھتے تو وہی ہیں جواُولُوا الۡاَلۡبَابِ ہیں ) (2:269)
یہ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ کون ہیں , اس کی بھی وضاحت کر دی گئ ہے:
اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ (بے شک ارض و سماوات کی تخلیقات میں) وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ (اور گردشِ لیل و نہار کے الٹ پھیر میں) لَاٰيٰتٍ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ (آیات ہیں اولوالالباب کے لئے) الَّذِيۡنَ (یہی تو ہیں وہ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ) يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ (جو یادِ الہی میں ہمہ وقت و ہمہ حال مشغول رہتے ہیں) قِيَامًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ (کھڑے، بیٹھے کروٹوں کے بل لیٹے) وَيَتَفَكَّرُوۡنَ ( اور ان کی یادِ الہی یہ ہے کہ یہ غور و فکر کرتے رہتے ہیں) فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۚ (تخلیقاتِ ارضی و سماوی میں) رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰذَا بَاطِلًا (اسی سے ان کو وہ نورِ ایمان ملتا ہے کہ یہ زبانِ حال سے پکار پکار اٹھتے ہیں کہ پروردگار تو نے یہ سب کچھ بیکار میں یونہی تخلیق نہیں کر دیا) سُبۡحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (تیری ذات جملہ عیوب و نقائص سے پاک اور ماوراء ہے ہے ، پس اس ایمانی شعور کی بدولت جو آیاتِ کائناتِ ہست و بود پر غور و فکر کے نتیجے میں ہمیں ملا ہے ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لیجیئو۔ آمین)
(3:190-191)
یہ ایک دو برس کی بات نہیں، لڑکپن سے پچپن تک اور پچپن سے سٹھیاپن تک بار بار کے مطالعۂ قرآن سے جو کچھ مجھے ملا ہے اس کا حاصل یہی ہے کہ آیاتِ ہست و بود سے پہلو تہی کرکے نہ تو دولتِ ایمان ملتی ہے اور نہ فہمِ کتابِ الہی۔ ہر دو باہم دگر مربوط ہیں ، متفرق نہیں۔ جس نے کتاب کی آیات اتاریں اسی نے صحیفۂ کائنات کو تخلیق کیا اور ایمان لانے کو اس کی آیات ہمارے پیشِ نظر کر دیں۔ آیاتِ ہست و بود سے جدا ہو کر قرأن فہمی !!!!
ایں خیال است و محال است و جنوں
Comments
Post a Comment