آدابِ مسرت

 آدابِ مسرت
 از ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاء۔ گوجرہ
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
   کیا تقریبات کی بھی حدود و قیود ہوا کرتی ہیں ؟ کیا شادمانی پر بھی کوئی قدغن لگ سکتی ہے ؟ کیا اظہارِ جذبات واحساسات کا بھی کوئی دائرہ ہے ؟ کیا مسرتوں کے بھی کوئی آداب ہوا کرتے ہیں ؟
     قرانِ مجید میں جہنمی (دوزخی) کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ
اِنَّهٗ كَانَ فِىۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا 
بلاشبہ وہ حیاتِ دنیوی میں اپنے اہلِ خانہ (اور اپنے لوگوں) میں پُر مسرت (خوشیوں میں مگن) رہا کرتا تھا۔ (اور اس کی وجہ یہ تھی کہ)  اِنَّهٗ ظَنَّ اَنۡ لَّنۡ يَّحُوۡرَ بلاشبہ وہ اصل میں اسی خیال کا تھا کہ وہ لوٹایا ہی نہ جائے گا (14-84:13) 
یعنی وہ مسرتوں میں کھیلا کرتا تھا ۔ بظاہر خواہ وہ آخرت پر ایمان کا دعویدار ہی ہو مگر اس کا حقیقی اندازِ حیات اس امر کا غماز تھا ، یعنی اس کا خوشیاں منانا اس بات کا اظہار تھا کہ اسے دوبارہ زندگی کا خیال ہی دامن گیر نہیں بصورتِ دیگر وہ اس قدر خوش باش ، عیش و عشرت میں مشغول اور خوشیوں میں مگن نہ رہتا۔
   اس کے برعکس جنتی لوگوں کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے کہ وہ یاد کریں گے اور کہیں گے:
اِنَّا كُـنَّا قَبۡلُ فِىۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ۞ (52:26)
بے شک یقیناً اس سے پہلے (دنیا میں) ہم اپنے اہلِ خانہ میں بھی ڈرے ڈرے گزران کیا کرتے تھے۔ یعنی دنیوی زندگی پر آخرت کا خوف غالب تھا۔۔ ایسے لوگوں کے سامنے یہ حکمِ ربانی رہتا ہے کہ
 لَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰٮكُمۡ‌ؕ 
مت خوشیاں منایا کرو اس پر جو کچھ بھی تمہیں اس (خدا) نے دیا ہے۔(57:23) یعنی عمر ہو ، زندگی ہو، مال و اسباب ہو، کچھ بھی ہو، نہ وہ عمر پانے پر ساگرہ مناتے ہیں، نہ مال و اسباب ملنے پر اتراتے اور گلچھرے اڑاتے ہیں۔ ان کا اندازِ حیات اس سنجیدگی کا مظہر اور اس احتیاط کا عکاس ہوا کرتا ہے جس کو تقویٰ کہا جاتا ہے یعنی خدا خوفی کا سنجیدہ اور محتاط اندازِ حیات۔
       کیا آپ اور ہم بھی اس امر کے مدعی ہیں کہ ہم اپنے اہلِ خانہ میں خوشیاں منانے کی بجائے ڈرے ڈرے رہا کرتے ہیں  یا اس کے برعکس  اپنے اہلِ خانہ میں اپنے احباب میں ڈرے ڈرے نہیں رہتے بلکہ خوشیاں منائے پھرتے ہیں ؟؟؟
اس سوال کا جواب کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں صرف اپنی ہی فطرت کے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے:
پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی
تٌو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی
بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗؕ 
(75:14-15)
بلکہ انسان خود ہی اپنے نفس کو بخوبی دیکھتا (جانتا) ہے خواہ کتنے ہی عذر (بہانے) تراشے 
      ایک شخص جس کو اس قفسِ عنصری یا قیدِ حیات کے بعد اگلے ہی دن سزائے موت کا اندیشہ ہو  تو وہ اس شبِ درد و سوز و غم :
"کہتے ہیں زندگی جسے"
 اس میں کیسے خوشیاں منائے گا ۔اگر وہ واقعی آخرت کی جوابدہی سے لرزاں و ترساں ہے تو پھر خوشیاں،مسرتیں اور شادمانیاں چہ معنی دارد !!!
    بندگی کے دائرے سے باہر  جنگ اور محبت میں سبھی کچھ جائز ہو تو ہو مگر حدودِ بندگی میں رہتے ہوئے سبھی کچھ متعین ہوتا ہے۔ یہاں حرب و ضرب کی طرح عشق و محبت کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں اور خوشی و مسرت کے بھی۔ یہاں کوئی شے بھی حدود و قیود و ضوابطِ بندگی سے ماوراء نہیں۔
      یار لوگ جب سالگرہ مبارک، جمعہ مبارک یا رمضان مبارک قسم کے تہیناتی پیغامات ارسال کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ مجھے تو کبھی عید مبارک کی بھی سمجھ نہیں آئی چہ جائیکہ میں کوئی اور مبارکباد وصول کروں کہ یہ تہیناتی پیغامات اور بدعات بہت بعد کی ایجاد ہیں جن کا وجود بھی اسلام کے صدرِ اول میں نہ تھا۔
      مجھے مغرب سے تو شکوہ نہیں کہ ان نے خود کو مدت ہوئی قیدِ شریعتِ مطہرہ اور تزکیہ کی گرفت سے آزاد کر لیا ہے مگر مجھے حیرت اس قومِ آوارہ مزاجاں پہ ہوتی ہے جو اقرارِ شریعت کرکے بھی حدودِ شریعت سے روگرداں ہے بقولِ اقبال:
مجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے ، یورپ سے نہیں ہے
   اس پر یہ افسوس کہ بچپن ہی سے جو طفلانہ طبیعت یا بچگانہ مزاج پیدا کر دیا جاتا ہے وہ سٹھیاپن میں بھی جان نہیں چھوڑتا:
مجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری
اور عیار ہیں یورپ کے شکر پارہ فروش
(اقبال)
   ایسے میں ہم اتباعِ محمد ﷺ  (جو کہ از روئے قران فرضِ عین ہے) کیسے اختیار کریں کہ جن کا حُسنِ معمولات و اندازِ زیست یوں بیان کیا جاتا ہے:
مُتَوَاصِلَ الأَحْزَانِ
آپ ﷺ مسلسل غمگین  رہنے والے تھے،
، دَائِمَ الْفِكْرَةِ  دائمی فکر (سوچ بچار) میں رہنے والے تھے
لَيْسَتْ لَهُ رَاحَةٌ، آپ کے لئے کوئی راحت سامانی نہیں تھی، چین اور سکون نہیں تھا
طَوِيلَ السَّكْتِ، طویل خاموشی اختیار کرنے والے تھے
لا يَتَكَلَّمُ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ، بلا ضرورت گفتگو نہیں فرماتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَيَتَكَلَّمُ اور کلام یوں فرماتے تھے کہ
لا فُضُولَ وَلا تَقْصِيرَ.. کہ جس میں نہ فضول بات اور نہ کوئی تقصیر
(شمائلِ ترمذی)
      کیا  قرآنِ مجید میں خوشیاں منانے کا کچھ ذکر نہیں ؟ اگر ہے تو اس کا طریق کیا ہے ؟ کیا خوشیاں اچھل کود کرکے اور حلوے مانڈے کی دیگیں چڑھا کر یا مٹھائیاں تقسیم کرکے یا کیک کاٹ کر منانی چاہیے یا پھر سرِ نیاز کو حدِ کمالِ بندگی پر خم کرنا لازم آتا ہے۔
    کتاب اللہ میں ہر ادب کی طرح خوشیاں منانے کے مواقع اور آداب بھی مذکور ہیں مثلا
قرانِ مجید کے پانے پر نزولِ قرآن کی خوشیاں منانے کا حکم ہے جو ہم رمضان کے روزے رکھ کر اور عیدالفطر کا فطرانہ و دوگانہ باجماعت نمازِ شکرانہ ادا کرکے مناتے ہیں:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اے انسانو
 قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ مَّوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ 
یقیناً آچکی ہے تمہارے تک تمہارے رب کی نصحیت اور یاد دہانی
 وَشِفَآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوۡرِۙ وَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ 
 اور یہ شّفآء ہے اس کے لئے جو سینوں میں (قلب) ہے اور ھدایت و رحمت ہے ماننے والوں کے لئے
قُلۡ
 کہ دیجیئے کہ
 بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ 
کہ یہ اللہ کے فضل اور رحمت کے باعث ہے فَبِذٰلِكَ فَلۡيَـفۡرَحُوۡا ؕ 
پس اس بات پر چاہیئے کہ یہ خوشیاں منائیں 
هُوَ خَيۡرٌ مِّمَّا يَجۡمَعُوۡنَ 
یہ (قران) اس سے کہیں بہتر ہے جو کچھ بھی یہ جمع کیا کرتے ہیں (58-10:57)
           پھر ایک نہیں بہت سے پُر مسرت مواقع آئے بدر کے یومِ فرقان میں فتح نے قدم چومے کبھی فتح مکہ کا دن آیا پھر خیبر کی فتح نصیب ہوئی ،کبھی حجۃ الوداع کا عظیم اجتماع منعقد ہوا ، شام و فلسطین اور ایران فتح ہوئے مگر کیا مسلمانوں نے خوشی کے ان مواقع پر کیک کاٹے؟  گلچھرے اڑائے ؟ مٹھائیاں بانٹیں ؟ توپوں کی سلامی دی ؟ تیر و تفنگ چلا چلا کر ہوا میں ضائع کئے ؟ کھیل تماشے منعقد کئے؟ لہو و لعب کی محافل سجائیں ؟ عید ملن پارٹیاں کیں ؟۔۔۔۔۔۔۔ 
نہیں،نہیں ہر گز نہیں۔۔۔۔
 یہ کافرانہ اندااز اختیار نہیں کئے ، فضول خرچیوں میں مال نہیں اڑایا، اپنے جیسے کھاتے پیتے لوگوں کو اور دعوتیں نہیں کھلائیں بلکہ بحضورِ باری سجدہ ریز ہوئے ، مال دل کھول کر اللہ کی راہ میں ضرورت مندوں پر لٹا دیا ، بیواؤں کی دستگیری کی، مسکینوں کی خبر گیری کی،یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھا ۔۔۔۔ یہ رہے مسلمانوں کے خوشیاں منانے کے انداز اور آداب۔
میں نے دل کی بات رکھی اور تُو نے دنیا والوں کی
میری عرض بھی مجبوری تھی، ان کا حُکم بھی مجبوری 
زندگی ساری کی ساری اسی کی ہے جس نے زندگی بخشی۔۔۔ اس کا کوئی ایک لمحہ بھی ہمارا تمہارا نہیں کہ ہم اپنی مرضی سے گزار سکیں۔ ہیپی برتھ ڈے کو پیمانۂ دین و مذہب یا فتویٰ سے نہ ناپیئے کہ یہ معاملہ تقویٰ کا ہے فتویٰ کا نہیں۔
کیوں دنیاداری کے لئے جواز اور حیلے بہانے تراشے جائیں۔ ہما شما نے دنیا میں کیا ہی کیا ہے جس برتے پر ناز فرما ہو کر بڑی ڈھٹائی سے باچھیں کھلا کھلا کر ہیپی برتھ ڈے کہیں۔ یہ ہیپی ہو کہاں سے گیا ؟ ہم اور آپ موت کے اور قریب آ گئے ؟ اس کو ہیپی کہنا ہی اس بات کا غماز ہے کہ نہ خوفِ خدا ہے ، نہ آخرت میں جواب دہی کا احساس دامن گیر ہے فقط دنیا داروں کا منہ رکھنے کو یہ رسم جاری ہے۔ اتباعِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ نہیں دیکھنا کہ حکم ملا کہ نہیں، منع کیا گیا کہ نہیں بلکہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ، کیسے کیا اور کیا نہیں کیا ؟ کیا کہیں آپ نے برتھ ڈے کو ہیپی بھی فرمایا ؟
ہیپی کہنا ہی بندے کے اندر کا پتہ دے دیتا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کو کیا سمجھتا ہے۔۔۔ اتنا بے خوف ہے کہ ٹانگیں قبر میں جا رہی ہیں اور دنیا داروں کے خوش رکھنے کو ہیپی برتھ ڈے، ہیپی برتھ ڈے کہتا پھر رہا ہے۔ کیا یہ شرم دلانے اور حیاء کرنے کا مقام ہے یا ان دنیا داروں کی حمایت کرنے کا کہ جو ہیپی برتھ ڈے کہ کر دنیا کے بارے میں زاویۂ نگاہ ہی تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ جملہ بے دینوں کے جس معاشرے اور قیدِ شریعت سے آزاد  جن لوگوں کی پیداوار ہے اور جس گمراہ ذہنیت کا ترجمان ہے ہمیں ان سے کیا لینا۔ ہمیں اور آپ سب کو بحثیت بندگانِ خدا اپنا زاویۂ نگاہ دنیا اور آخرت کے بارے میں ہر گز نہیں بدلنا۔
ہیپی برتھ ڈے محض ایک جملہ یا اصطلاح نہیں  بلکہ پوری کی پوری زندگی کے بارے میں آپ کے نکتۂ نظر ، زاویۂ نگاہ اور اندازِ زیست کا ترجمان ہے۔
یہ بھی کلمۂ طیبہ ہی کے مقابلے میں ایک کلمۂ خبیثہ ہے۔۔ جیسے کلمۂ طیبہ سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے، ہیپی برتھ ڈے یکسر اندازِ حیات اور زاویۂ نگاہ کو دنیا کی زندگی کی طرف مبذول کرنے کا نام ہے اور ایک بندۂ مومن کے شایانِ شان ہی کب ہے کہ وہ دنیاداری کے لغو کلمات خواہ مخواہ زبان پر لائے۔ مومن برتھ ڈے تو کیا زندگی کا ایک ایک لمحہ خدا کے ہاتھ فروخت کر چکا ہوتا ہے:
 الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ ؕ (4:74)
یہ وہ لوگ ہوا کرتے ہیں جو پوری کی پوری زندگی ہی آخرت کےبدلے بیچ دیتے ہیں
ان کے لئے ہیپی برتھ ڈے کچھ نہیں ہوتا نہ یہ مغرب کے لادین معاشرے کی ایسی لغویات کے لئے فتوے اور شرعی دلائل تلاش کرنے کے درپے ہوا کرتے ہیں۔ ان کا اعتراض تو یہ ہوتا ہے کہ تم گلچھرے اڑاتے ہی کیوں ہو ؟  ایسا اندازِ حیات رکھتے ہی کیوں ہو ؟ زندگی کے بارے میں یہ "ہیپی" ہونے کا زاویۂ نگاہ اپناتے ہی کیوں ہو ؟
تمہاری عیدیں ہوں یا تقریبات ان کا انداز ہی مومنانہ نہیں، بلکہ طفلانہ اور بچگانہ ہے، کافرانہ ہے:
چہ کافرانہ قمارِ حیات می بازی
کہ بازمانہ تو سازی، بخود نمی سازی
کس کافرانہ انداز سے تو نے زندگی کا جُوا کھیلا ہے کہ تو نے زمانے والوں کی تائید تو کر لی، زمانے کا ساتھ تو دے دیا، زمانے والوں کا دل تو رکھ لیا مگر افسوس کہ تو خود اپنے آپ سے انصاف نہ کر پایا۔ جو اصل بات تھی اس کی تائید ہی نہیں کی۔
زندگی کا کوئی ایک لمحہ بھی ہمارا تمہارا ہے ہی نہیں کہ اس پر خوشیاں منائی جائیں اور خوشیاں منائیں بھی تو کس برتے پر کہ ہمارا تو سب کچھ بک چکا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى
یقیناً خرید لیا ہے خدا نے
 مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
مومنوں سے
 اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ
ان کا اپنا آپ یعنی ان کی ذات و صفات سب کچھ اور ان کا سب مال و اسباب
 بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَــنَّةَ‌ 
اس عوض کہ ان کے لئے جنت ہے
(9:111)
 اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ (6:162) بے شک میری نماز، میری قربانی اور میری پوری کی پوری زندگی اور اس کا ایک ایک لمحہ اور میری موت صرف اور صرف اللہ پروردگارِ ہر جہان کے لئے ہے۔
اس میں کوئی ایک برتھ ڈے بھی ہمارا تمہارا نہیں۔
عرف کے تحت سالگرہ کو کیونکر قبول کر لیں ؟؟؟ کیوں ؟؟؟
ہم ایسے منکر کو معروف کیونکر مان لیں جس سے زاویۂ نگاہ ہی بدل جائے۔۔ فکرِ آخرت کی بجائے دنیا طلبی دل میں گھر کر جائے۔ ہمارے لئے یہ مقامِ مسرت نہیں بلکہ دنیاداروں کی ایک لعنت ہے۔
میں نے آپ کو نصِ قرآنی پیش کی 
لا تفرحوا خوشیاں مت مناؤ بما اٰتٰکُم جو کچھ تمہیں دیا جائے اس پر
میں نے نصِ قرآنی پیش کی کہ اہل و ایال میں خوشیاں منانا جہنمیوں کا شیوہ ہے۔۔۔
انہ کان فی اھلہ مسرورا
وہ اپنے اہل میں بہت خوش رہا کرتا تھا
میں نے جنتی لوگوں کے بارے میں بتایا کہ قران میں ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ میں ڈرے ڈرے رہتے تھے۔۔۔۔
بات زاویۂ نگاہ کی ہے۔۔۔ اور کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔
خیر
تو بدل گیا تو بہتر، کہ بدل گئی شریعت
نہیں لائقِ تدرواں یہ کارِ شاہبازی
منائیے خوشیاں کہ   عمرِ عزیز کا ایک دن اور کم ہو گیا ہے ۔۔۔ منائیے خوشیاں کہ قبر کا گڑھا اور نزدیک آ لگا ہے، خوشیاں منائیے کہ یومِ حساب کچھ اور قریب آ لگا ہے:
اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ
قریب آلگا ہے لوگوں کے لئے ان کا حساب
 وَهُمۡ فِىۡ غَفۡلَةٍ مُّعۡرِضُوۡنَ‌ۚ
اور وہ ہیں کہ غفلت میں اعراض کئے ہوئے ہیں
 (21:01)
یہ معاملے ہیں نازک جو تیری رضا ہو تو کر
باقی رہی بات عرفِ زمانہ کی اور حرام و حلال کی یعنی فتوے بازی کی تو 
قلندر جز دو حرفِ لاالہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہِ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
آج میرے برادرِ عزیز کا بھی یومِ ولادت ہے اور پسرِ عزیز کا بھی اور دونوں کا وقتِ ولادت بھی قریب قریب ایک ہی ہے۔۔۔۔ مگر کسی کو دنیاداروں کی طرح بچگانہ و طفلانہ و عامیانہ طور پر ہیپی برتھ ڈے کہنا مدت ہوئی میں نے چھوڑ دیا ہے۔۔۔ مگر میں نے ابھی ابھی آخرِ شب سجدے میں اپنے برادرِ عزیز کے لئے بھی اور پسرِ عزیز کے لئے بھی اوراپنے دیگر عزیزو اقارب کے لئے بھی دعائے خیر کی ہے۔۔۔
یہی کافی ہے۔۔۔۔۔
میں برتھ ڈے کو ہیپی کہ کر زاویۂ نگاہِ شوق کیسے بدل ڈالوں۔۔ 
ہمارے بڑوں میں یہ وطیرہ کب تھا۔۔۔۔ یہ رسمِ بد ہمارے ہاں کب سے در آئی ؟؟ میرا نہیں خیال کہ میری پڑدادی نے کبھی میرے دادا کو یا ان بڑوں میں سے کسی نے ایک دوسرے کو ہیپی برتھ ڈے کہا ہو۔۔۔ شاید یہ دولت کا خمار ہے جو ہمیں دنیاداریوں کی طرف لے گیا ہے:
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
میں نے فتوے کی بات تو کی ہی نہیں کہ یہ صوفیوں اور ملاؤں کو اور فقیہوں کو مبارک۔۔۔۔ میں تو تقویٰ کا رونا رو رہا ہوں۔۔۔ کچھ شرم و حیاء دلا رہا ہوں کہ برتھ ڈے ہیپی کہاں سے ہو گیا ؟؟؟
تم مسلماں ہو ؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے ؟؟؟
بہرحال بات یہیں ختم کیئے دیتے ہیں۔۔۔ آپ
ان طفلانہ طبائع کی برقراری کو جواز، حیلے اور بہانے تراشیئے۔۔۔ فتوے لائیے مگر میں اس سے باز ایا:
واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں
اقبال کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے
🙏🙏🙏🙏🙏

Comments

  1. مسلمان کو ہر وقت غمگین رہنے کی ضرورت نہیں۔
    قرآن آخرت کی فکر، تقویٰ اور جواب دہی کی تعلیم دیتا ہے، مسلسل اداسی کی نہیں۔
    سورۂ یونس (10:58) میں اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہونے کی ہدایت ہے۔
    رسول اللہ ﷺ مسکراتے بھی تھے اور صحابہؓ کے ساتھ خوشگوار وقت بھی گزارتے تھے۔
    خوشی جائز ہے، بشرطیکہ اس میں گناہ، اسراف، تکبر یا دوسروں کی حق تلفی نہ ہو۔
    سالگرہ منانے کے شرعی حکم میں علماء کا اختلاف ہے؛ اسے لازماً حرام کہنا یا مبارک باد دینے والے کو بے دین قرار دینا درست نہیں۔
    نتیجہ: اسلام غمگین چہرہ رکھنے کا نہیں، بلکہ نیک کردار، شکر، اعتدال اور آخرت کی فکر کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے۔

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

PARTITION & SEPARATION

امیروں کی جنت تحریر: ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ ـ گوجرہ